صفحہ اول | شمارہ جات | موضوعاتی اشاریہ | ہمارے بارے میں | مصنفین | رابطہ کریں
شمارۂ اول 2026ء
فہرست مضامین
بیدل اور حیرت کی مابعد الطبیعات
میرزا عبد القادر بیدل(۱۷۲۰۔۱۶۴۲) ہند اسلامی تہذیب کی فارسی شاعری میں ہندوستانی اسلوب کے شاعرِ اعظم ہیں۔ سبکِ ہندی کی جمالیات اور صوفیا نہ مابعد الطبیعات کا جس اعلی تخیلاتی سطح پر آپ کی تخلیقا ت (کلیاتِ بیدل) میں شاعرانہ اظہا ر ہوا ہے وہ سترہویں صدی عیسوی کا ایک محیرالعقول واقعہ ہے۔ عمر بھر بیدل زندگی کے گہرے فلسفیانہ اور مابعد الطبیعی مسائل پر غوروفکر کرتے رہے اور انسان کی بنیادی نوعیت کی وجودی صورتِ حال کو اپنے تخلیقی وجدان سے علامتی اور استعاراتی اظہار میں اس طرح پیش کرتے رہے کہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ’’ بیدل صحیح معنوں میں اسرارِ کائنات کے محقق تھے جسے فرانسیسی شاعر راں
بیدل ، خان آرزو اور میر
میرؔ ہمارے شاعروں میں بڑے انفرادیت پسند شاعر ہیں۔ غالب کے بارے میں عموماً کہا جاتا ہے کہ وہ مروّجہ شعرا اور شعریاتی نظریہ سازوں کے سخت ناقد تھے۔ ان کے اکثر خیالات نہایت جامع و لامع طور سے ہم تک پہنچے ہیں۔ اس کی وجہ غالبؔ کے تلامذہ کی کثرت کے علاوہ ان کی اظہار پسند شخصیت بھی ہے۔ انھوں نے اپنے کلام کی پیچیدگیوں کا سراغ بھی کسی نہ کسی طرح مہیا کیا ہے۔ غالبؔ کے شعری معرکے، ادبی چٹکلے اور خطوط ہم سب کے سامنے ہیں۔ مختلف خطوں میں انھوں نے اپنے ادبی موقف کی کھل کر وضاحت کی ہے۔ اور تو اور فارسی کلام اور مثنویوں میں انھوں نے اپنی شعری اثر پذیری کو تدریجی طور پر بیان کیا ہے۔غالبؔ کا شعری سفر بیدلؔ سے شروع ہوا( غالبؔ نے کم سے کم تیرہ شعروں میں بیدلؔ سے اپنی اثر پذیری کا ذکر کیا ہے) اور کئی مرحلوں سے گزر کر بالآخر ظہوریؔ اور نظیریؔ کی منزل پر تمام ہوا۔مثنوی ’بادِ مخالف‘ میں سبکِ ہندی کے دائرے میں غالبؔ کے شعری اکتساب کو سلسلہ بہ سلسلہ دیکھا جا سکتا ہے
مرزا بیدلؔ کی ریختہ گوئی
میرؔ ہمارے شاعروں میں بڑے انفرادیت پسند شاعر ہیں۔ غالب کے بارے میں عموماً کہا جاتا ہے کہ وہ مروّجہ شعرا اور شعریاتی نظریہ سازوں کے سخت ناقد تھے۔ ان کے اکثر خیالات نہایت جامع و لامع طور سے ہم تک پہنچے ہیں۔ اس کی وجہ غالبؔ کے تلامذہ کی کثرت کے علاوہ ان کی اظہار پسند شخصیت بھی ہے۔ انھوں نے اپنے کلام کی پیچیدگیوں کا سراغ بھی کسی نہ کسی طرح مہیا کیا ہے۔ غالبؔ کے شعری معرکے، ادبی چٹکلے اور خطوط ہم سب کے سامنے ہیں۔ مختلف خطوں میں انھوں نے اپنے ادبی موقف کی کھل کر وضاحت کی ہے۔ اور تو اور فارسی کلام اور مثنویوں میں انھوں نے اپنی شعری اثر پذیری کو تدریجی طور پر بیان کیا ہے۔غالبؔ کا شعری سفر بیدلؔ سے شروع ہوا( غالبؔ نے کم سے کم تیرہ شعروں میں بیدلؔ سے اپنی اثر پذیری کا ذکر کیا ہے) اور کئی مرحلوں سے گزر کر بالآخر ظہوریؔ اور نظیریؔ کی منزل پر تمام ہوا۔مثنوی ’بادِ مخالف‘ میں سبکِ ہندی کے دائرے میں غالبؔ کے شعری اکتساب کو سلسلہ بہ سلسلہ دیکھا جا سکتا ہے
حافظ و بیدل
صدرالدین عینی کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ میں نے کئی سال پہلے بھی انگلستان کے ایک کتب خانے میں اسے دیکھا تھا اور اس کے کچھ حصے پڑھے تھے مگر نہ جانے کیوں تب اس نے مجھے اتنا متاثر نہیں کیا تھا۔ دراصل یہ کتاب تاریخی، سماجی، سیاسی، ثقافتی اور مذہبی معلومات کا ایک سمندر ہے جو ماوراءالنہر (یعنی موجودہ ازبکستان اور تاجکستان) کے حالات پر روشنی ڈالتی ہے۔ کتاب کیا ہے، فارسیِ دری اور تاجکی زبان کے الفاظ، محاوروں اور کہاوتوں کا ایک قیمتی خزانہ ہے جن میں سے بیشتر الفاظ کی ہمیں آج سخت ضرورت ہے۔ مصنف کی قوت تحریر اور اوصاف نگاری کا فن اپنی مثال آپ ہے۔ ان کا انداز بیان قاری کے ذہن میں ابوالفضل بیہقی[2] کی یاد تازہ کر دیتا ہے
مطالعۂ بیدل؛ کچھ تمہیدی باتیں
زیرِ نظر مضمون احمد جاوید صاحب کی ایک تمہیدی گفت گو پر مشتمل ہے جو انھوں نے بیدل کے فکری و شعری نظام کے ابتدائی مطالعے کے ضمن میں کی تھی۔ اس میں انھوں نے سبكِ ہندی کی خصوصیات، صائب تبریزی کے اثرات، بیدل کے تخلیقی امتیاز، اور ان کے فلسفیانہ و جمالیاتی شعور کے بنیادی خطوط نہایت وضاحت اور اختصار کے ساتھ نمایاں کیے ہیں۔ یہ گفت گو اگرچہ اپنے موضوع کے اعتبار سے ابتدائی اور تعارفی نوعیت کی ہے مگر بیدل فہمی کے ایک منضبط زاویے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ احمد جاوید صاحب نے بیدل کی متعدد غزلوں پر بھی مفصل گفت گوئیں کی ہیں جو یوٹیوب پر دست یاب ہیں اور تدوین و ادارت کے مراحل سے گزر رہی ہیں؛ انھیں عن قریب کتابی صورت میں شایع کیا جائے گا۔یہ مختصر مضمون دراصل اسی آیندہ سلسلے کا دیباچہ ہے جو بیدل کے پیچیدہ مگر سحر انگیز اور معنی آفریں جہاں میں داخلے کے لیے ایک فکری دریچہ وا کرتا ہے۔