Life Of Bedil

ابوالمعانی میرزا بیدل کا مختصر تعارف

پ کا پورا نام میرزا عبد القادر ہے، 1644ء بمطابق 1053ھ کو معروف علمی اور روحانی شخصیت حضرت میرزا عبد الخالق کے گھر میں دریائے گنگا کے جنوبی کنارے موجود شہر عظیم آباد پٹنہ میں پیدا ہوئے، آپ کے آباء و اجداد مغل قوم کے “آرلاس” قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، اور “ازبکستان” کے رہنے والے تھے۔

ساڑھے چار سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور چھ سال کی عمر میں والدہ کی آغوشِ رحمت چِھن گئی، اس کے بعد آپ کی پرورش آپ کے چچا میرزا قلندر نے غایتِ شفقت و محبت سے کی، جو کہ آپ کے والد کے روحانی جانشین بھی تھے، قرآنِ کریم، فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی کتب اپنے چچا کے مکتب ہی میں پڑھیں، پھر چچا کے حکم سے باقاعدہ تعلیم چھوڑ کر قدیم شعراء و ادباء کی نظم و نثر کا مطالعہ شروع کیا، حافظہ کمال کا پایا تھا، جو سنتے تھے یاد ہوجاتا تھا، اس کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے اہلِ تصوف و اہلِ سخن کی صحبتوں سے کسبِ فیض کا موقع بھی ملا، اہل اللہ کی صحبتیں پانے کے لیے کئی اسفار بھی کیے، فنِ شاعری کی تحصیل میں اس زمانے کے عظیم صوفی شاعر شیخ کمال کا سایہ میسّر آیا۔

سخن سنجی اور سخن فہمی آپ پر ختم تھی، اپنی ابتدائی شاعری کو کبھی محفوظ نہیں کیا جس سے آپ کے بلند معیار کا اندازہ ہوتا ہے، ابتداء میں “رمزی” تخلص کرتے تھے پھر شیخ سعدی کے قطعے:

گر کسے وصفِ او ز من پرسید بیدل از بےنشان چہ گوید باز عاشقان کُشتگانِ معشوق اند بر نیاید ز کُشتگان آواز

سے متاثر ہو کر “بیدل” تخلص کرنے لگے، کئی علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے، جن کے حوالے آپ کی شاعری میں جابجا موجود ہیں،نجوم ،رمل،موسیقی وغیرہ کی کتابیں نہایت تعمق سے پڑھی تھیں اور ان فنون سے کمالِ واقفیت رکھتے تھے، ہندی زبان و ادب پر کامل دستگاہ رکھتے تھے، مہا بھارت پوری یاد تھی، ویدوں کے حوالے بھی آپ کے اشعار میں موجود ہیں جس سے ہندو مت سے ان کی شناسائی ظاہر ہوتی ہے، طب میں آپ کی مہارت مسلم تھی اور آپ کی بنائی ہوئی دوائیاں دہلی میں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں ۔

1079ھ میں پچیس سال کی عمر میں شادی کی جس کی تاریخ “بشگفت گلِ حدیقہِ یُمن” خود کہی، شادی کے اکتالیس سال بعد 1120ھ میں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اپنے والد کے نام پر عبد الخالق رکھا، یہی ان کی پہلی اور آخری اولاد تھی، اس کی پیدائش کی بڑی خوشی منائی اور فقراء میں دولتِ وافر تقسیم کی۔

1096ھ تک اکبرآباد، متھرا اور دہلی میں عارضی قیام رہا، مستقل رہائش کہیں اختیار نہیں کی، آخر میں دہلی میں مقیم ہونے کا ارادہ کیا اور 1096ھ بمطابق 1680ء میں مع اہل و عیال متھرا سے دہلی آئے، نواب شکراللہ خاں نے “کھیکھریاں” میں گزرگاٹ کے کنارے ایک حویلی پانچ ہزار روپے کی خرید کر تحفے میں دی اور یومیہ دو روپے وظیفہ اخراجات کے لیے الگ سے مقرر کیا، اس زمانے میں دو روپے مہینے بھر کے لیے کافی ہوجاتے تھے، آپ کے زمانے میں ہی بڑے بڑے اصحابِ علم اور اربابِ اقتدار آپ کی شاعری اور کمالاتِ علمیہ کے دلدادہ تھے، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے والد حضرت شاہ عبد الرحیم رحمہ اللہ آپ کے آستانے پر حاضری کو اپنے لیے باعثِ شرف سجمھتے تھے، اورنگزیب بادشاہ نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کی شاعری پڑھنے کے لیے ایک وقت مختص کیا تھا اور آپ کے کئی اشعار انہیں زبانی یاد تھے اور انہیں جگہ جگہ خطوط میں بر محل استعمال کرتے تھے۔

آپ غایت درجہ خوش اخلاق، خوش گفتار، ملنسار اور قناعت پسند تھے، جو بھی آپ کی محفل میں بیٹھتا تھا آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا، شدید مخالفین بھی آپ کی گفتگو سن کر قائل ہوجاتے تھے، آپ کی محفل میں بلا امتیازِ مذہب و مسلک ہر قسم کے لوگ حاضر ہوتے تھے اور آپ کے جواہرِ کلام سے مالامال ہوتے تھے۔

دہلی میں قیام کے بعد اس قدر آسودہ حال ہوگئے تھے کہ جب “چہار مصرع” لکھی تو اس کے وزن کے مطابق (14 سیر) زر و جواہر غریبوں میں بطورِ تفاول بانٹے۔

شاعری کی دنیا پر آپ کی بادشاہی تاقیامِ قیامت رہے گی، شاعری کو جو کچھ آپ نے دیا ہے وہ کسی نے نہیں دیا، مضامین کی جو فراوانی اور ان کا جو بلیغ بیان آپ کے ہاں ہے وہ کسی کے ہاں نہیں ہے، بیدل کے بعد آنے والے ہر بڑے شاعر نے ان کے فن سے استفادہ کیا ہے اور انہیں خراجِ عقیدت و تحسین پیش کیا ہے، غالب اور اقبال جیسے شعراء بیدل کے معترف ہی نہیں بلکہ ان کے طرزِ شاعری اور کمالِ فن کے شیدائی تھے اور اپنی شاعری میں ان کے مضامین سے خوب خوب استفادہ کیا کرتے تھے۔

بیدل کی شاعری ایک سحر ہے، جس میں جکڑنے والا تاحیات اس سے رستگاری نہیں پاسکتا، بیدل کے فورا بعد کسی دوسرے شاعر کا کلام نہیں پڑھا جاسکتا، بندہ ایسا اس کی لطافتوں کا عادی ہوجاتا ہے کہ دوسری شاعری پھیکی پھیکی لگتی ہے۔

آپ کے شعری آثار میں سے مثنویات، رباعیات، قصائد، تراکیب اور غزلیات جبکہ نثری تخلیقات میں سے “رقعاتِ بیدل” ، “نکات” اور “چہار عنصر” مشہور ہیں ۔
آپ کے اشعار کی تعداد کم و بیش 68 ہزار ہے، بعض لوگوں نے ایک لاکھ تک کا قول بھی کیا ہے، آپ کا ہر ہر شعر فکر و فن کا مرقّع ہے۔ آپ کی مشہور مثنویاں “طورِ معرفت”، “عرفان” اور “طلسمِ حیرت” ہیں۔
آپ نے ایک اردو غزل بھی کہی ہے، نیز اردو کے اوّلین استاذ شعراء مثلا سراج الدیں خاں آرزو اور سعد اللہ گلشن وغیرہ آپ کے شاگرد ہیں۔6 صفر 1133ھ بمطابق 5 دسمبر 1720ء کو یہ نابغہِ روزگار شاعر اپنے معشوقِ حقیقی سے جا ملے۔

تاجکستان اور افغانستان میں ہر سال یہ دن عرسِ بیدل کے نام سے منایا جاتا ہے، اور اس دن شعراء اور موسیقار بیدل کے کلام سے تقاریب کو مزیّن کرتے ہیں 

فانی صوابوی

Bedil Foundation Pakistan is a scholarly and literary institution dedicated to the promotion of the thought, poetry,

Contact Info

info@bedilfoundation.org

Bedil Foundation Pakistan
Third Floor PIMH, Adjacent to Royal Palace Hotel, Opposite Ayub Park Main GT Road Chaklala Cant, Cant, Chaklala, Rawalpindi, 46000

Copyright © 2025. Bedil Foundation. All rights reserved. Website by Megatronix.